حدیث نمبر: 2909
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا ، لِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ؟ " ، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ : هَلْ سَمَّى لَكَ الْجَوَائِحَ ؟ ، قَالَ : لا ،.
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر تم اپنے بھائی کو کچھ پھل فروخت کرتے ہو اور اس کو کوئی آفت لاحق ہوتی ہے، تو اب تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم اس کا کوئی معاوضہ وصول کرو، تم کسی حق کے بغیر کسی بنیاد پر اپنے بھائی کا مال حاصل کرو گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: روایت میں یہ الفاظ ہیں جوائح؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2909
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1554، وابن الجارود فى "المنتقى"، 696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5034، 5035، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2269، 2270، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3470، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2598، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2219، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2908، 2909، 2910، 2911، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5623، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6768»