حدیث نمبر: 2904
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ : " وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، خَالَفَهُ الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ فِي إِسْنَادِهِ ،.محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”جو شخص فوت ہو جائے، اس کے پاس کسی دوسرے شخص کا مال موجود ہو، خواہ اس شخص نے اس کے معاوضے میں سے کوئی رقم وصول کی ہو یا نہ کی ہو، وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“ یمان بن عدی نامی راوی نے اس کی سند میں اختلاف کیا ہے۔