نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدٍ الْخَبَايِرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلانِيُّ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ وَلَمْ يَكُنْ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ ، وَإِنْ كَانَ قَبَضَ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، وَقَالَ دَعْلَجٌ : " فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ، وَلا يَثْبُتُ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ مُسْنِدًا ، وَإِنَّمَا هُوَ مُرْسَلٌ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے اور پھر اس سامان کو بعینہ کسی شخص کے پاس جائے، جو مفلس قرار دیا جا چکا ہو، اس فروخت کرنے والے نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو، تو وہ سامان اس شخص کو مل جائے گا، لیکن اگر وہ اس کی قیمت میں سے کچھ وصول کر چکا ہو، تو وہ باقی قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“ یمان بن عدی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگر اس شخص نے اس کی قیمت میں سے کچھ ادا کر دی ہو، تو وہ دوسرے شخص باقی قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“