حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمْرِو بْنِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ ، أَنَّهُ قَالَ : جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ ، فَقَالَ : هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ " .محمد محی الدین
ابن خلدہ زرقی، جو مدینہ منورہ کے قاضی تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ وہ مسئلہ ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے: ”جو شخص فوت ہو جائے یا مفلس قرار دے دیا جائے اور پھر کسی سامان کا مالک بعینہ اپنے سامان کو اس کے پاس پائے، تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“