حدیث نمبر: 2900
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ " فِي صَاحِبٍ لَنَا أُصِيبَ لِهَذَا الدَّيْنِ يَعْنِي أَفْلَسَ ، فَقَالَ : ثُمَّ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ ، أَنَّ صَاحِبَ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ أَنْ يَتْرُكَ صَاحِبَهُ وَفَاءً " .
محمد محی الدین

عمر بن خلدہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے ایک ساتھی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو مرض کی وجہ سے مفلس قرار دیا جا چکا تھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا، جو انتقال کر چکا ہو یا جو مفلس ہو چکا ہو: ”سامان کا حقیقی مالک جب اپنے مال کو بعینہ کسی کے پاس پائے، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا، البتہ وہ اپنے ساتھی کو پوری ادائیگی کرے (یعنی جو اس ساتھی کا حصہ بنتا ہے)۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066»
«أبو المعتمر مجهول على ما ذكره أبو داود ، المفهم لما أشكل من تلخيص مسل