سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي جَوَازِ تَقْدِيمِ غَسْلِ الْيَدِ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى باب: : (وضو کے دوران) دائیں ہاتھ سے پہلے بائیں ہاتھ کو دھو لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 290
نا نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا مَرْوَانُ ، نا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ زِيَادٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ ، فَقَالَ : أَبْدَأُ بِالْيَمِينِ أَوْ بِالشِّمَالِ ؟ " فَأَضْرَطَ عَلِيٌّ بِهِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَبَدَأَ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْيَمِينِ " .محمد محی الدین
زیاد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا اور بولا: ”میں دائیں ہاتھ کے ذریعہ آغاز کروں یا بائیں ہاتھ کے ذریعے آغاز کروں؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے جھڑکا اور پھر آپ نے پانی منگوایا اور (وضو کرتے ہوئے) دائیں ہاتھ سے پہلے بائیں ہاتھ کو دھو لیا۔