نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ مَاهَانَ ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلالِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَنَفْسِهِ كُتِبَ لَهُ صَدَقَةً ، وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ عِرْضَهُ كُتِبَ لَهُ بِهِ صَدَقَةً ، وَمَا أَنْفَقَ الْمُؤْمِنُ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّ خَلَفَهَا عَلَى اللَّهِ ضَامِنٌ ، إِلا مَا كَانَ فِي بُنْيَانٍ أَوْ مَعْصِيَةٍ " ، فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ : مَا يَعْنِي وَقَى بِهِ الرَّجُلُ عِرْضَهُ ؟ ، قَالَ : أَنْ يُعْطِيَ الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ الْمُتَّقَى.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہر نیکی صدقہ ہے، آدمی اپنی بیوی پر، اپنی جان پر جو خرچ کرتا ہے، یہ اس کے لیے صدقہ کے طور پر لکھا جاتا ہے، اس چیز کے ذریعے آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے، یہ بات اس کے لیے صدقے کے طور پر لکھی جاتی ہے، آدمی جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، تو اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے (یعنی اس کا اجر و ثواب عطا کرے گا)، ماسوائے اس چیز کے، جو کسی تعمیر میں خرچ کیا جائے یا کسی گناہ کے کام میں خرچ کیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے محمد بن منکدر سے دریافت کیا: ”آدمی اس کے ذریعے اپنی عزت کی حفاظت کرے، اس سے مراد کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کہ وہ کسی شاعر کو یا کسی بدزبان آدمی کو (معاوضہ دے، تاکہ وہ اس کے ساتھ بدتمیزی نہ کرے)۔“