ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ لازِمٌ غَرِيمًا لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " غَرِيمٌ لِي ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ ، يَعْنِي أَنْ تَأْخُذَ النِّصْفَ ؟ وَقَالَ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخَذَ الشَّطْرَ وَتَرَكَ الشَّطْرَ ، أَوْ قَالَ النِّصْفَ " .عبداللہ بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت اپنے ایک مقروض کے ساتھ الجھے ہوئے تھے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ میرا مقروض ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم یہ نہیں کرتے، یعنی تم اس سے نصف وصول کر لو؟“ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے یہ بات ارشاد فرمائی، تو میں نے عرض کی: ”جی ہاں! یا رسول اللہ!“ تو انہوں نے نصف حصہ وصول کر لیا اور نصف حصہ چھوڑ دیا (راوی کو شک ہے کہ شاید روایت میں شطر کی بجائے لفظ نصف منقول ہے)۔