نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْعَلاءِ الْكَاتِبُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَسَنِ الأَحْوَلِ مَوْلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ حَارِثَةَ الضَّمْرِيُّ ، ذَكَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : لا يَحِلُّ لامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ ، فَقُلْتُ حِينَئِذٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمٍّ لِي فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً ، فَاجْتَزَرْتُهَا أَعَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا فَلا تَمَسَّهَا " .سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں منی میں حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کسی بھی انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال میں سے کوئی بھی چیز لینا جائز نہیں ہے، ماسوائے اس کے جسے وہ (دوسرا شخص) اپنی پسند کے ساتھ دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس وقت عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں، اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریوں کو اپنے سامنے پاتا ہوں اور ان میں سے ایک بکری لے لیتا ہوں اور ذبح کر لیتا ہوں، تو کیا اس بارے میں مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایک بکری کا سامنا کرتے ہو اور اس وقت تمہارے ہاتھ میں چھری بھی ہے اور ہاتھ پاؤں باندھنے کی چیزیں بھی ہیں، تو بھی تم اس بکری کو ہاتھ نہ لگاؤ۔“