نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ ، فَقَالَ : بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : " لِمَ دَخَلْتَ هَذَا ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ ، وَلا تَأْخُذَنَّ إِلا مثلا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مثلا بِمِثْلٍ ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قِيلَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مثلا ، قَالَ : فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ " .معمر بن عبداللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے: ”اسے ایک صاع فروخت کر دو اور اس کے ذریعے جو خرید کر لے آؤ۔“ وہ غلام گیا اور اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ وصول کر لیا، جب وہ آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو معمر نے کہا: ”تم نے اس میں دخل کیوں کیا؟ تم جاؤ اور اسے واپس کر دو اور صرف برابر کا لین دین کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اناج کو اناج کے عوض میں صرف برابر (لیا اور دیا جا سکتا ہے)۔“ راوی کہتے ہیں: ان دنوں ہماری خوراک جو ہوا کرتی تھی، معمر سے یہ کہا گیا کہ یہ تو اس کی مانند نہیں بنتے، تو انہوں نے فرمایا: ”میرا یہ خیال ہے کہ یہ اس کی مانند ہیں۔“