نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الدَّيْنَوَرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامَهُ بِصَاعِ بُرٍّ ، فَقَالَ : بِعْهُ وَاشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ الصَّاعِ ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ مَعْمَرٌ : " لِمَ فَعَلْتَ ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلا تَأْخُذَنَّ إِلا مثلا بِمِثْلٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ ، يَعْنِي مثلا بِمِثْلٍ ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ " .معمر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے: ”اسے ایک صاع فروخت کر دو اور اس کے ذریعے جو خرید کر لے آؤ۔“ وہ غلام گیا اور اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ وصول کر لیا، جب وہ آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو معمر نے کہا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم جاؤ اور اسے واپس کر دو اور صرف برابر کا لین دین کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اناج کو اناج کے عوض میں۔“ ان کی مراد یہ تھی کہ صرف برابر برابر لیا اور دیا جا سکتا ہے، ان دنوں ہماری خوراک جو ہوا کرتی تھی، اس غلام نے کہا: ”یہ تو اس کی مانند نہیں ہیں۔“ تو معمر نے کہا: ”مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ اس کے برابر ہوتے ہیں۔“