حدیث نمبر: 2876
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ النُّعْمَانِيِّ ، نَا الْحُسَيْنُ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيّ ، ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، مثلا بِمِثْلٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سونے کو سونے کے عوض میں، چاندی کو چاندی کے عوض میں، کھجور کو کھجور کے عوض میں، گندم کو گندم کے عوض میں، جو کو جو کے عوض میں، نمک کو نمک کے عوض میں صرف دست بہ دست برابر فروخت کیا جا سکتا ہے، لیکن جب ان اصناف میں اختلاف ہو جائے، تو تم جیسے چاہو فروخت کرو، اس وقت کہ جب یہ دست بہ دست لین دین ہو (یعنی ادھار کا سودا نہ ہو)۔“