ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِهَا يَوْمَهَا ، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ " ، وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ : فَأَعْطَى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فِي الْمَوْضِعَيْنِ جَمِيعًا وَالْبَاقِي مِثْلَهُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کیا کرتا تھا، بعض اوقات میں انہیں دینار کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لیتا تھا اور بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور درہم کی جگہ دینار وصول کر لیتا تھا، یہ اس کی جگہ لے لیتا تھا اور وہ اس جگہ دے دیا کرتا تھا، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ اس وقت سیدہ حفصہ کے گھر میں موجود تھے، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کرتا ہوں، تو بعض اوقات میں دینار کے عوض میں فروخت کرتا ہوں، لیکن درہم وصول کر لیتا ہوں، بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا ہوں اور دینار وصول کر لیتا ہوں، یہ میں اس کی جگہ لے لیتا ہوں اور وہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم اس دن کے بھاؤ کے حساب سے لیتے رہو، جب تک تم دونوں جدا نہیں ہوتے یا تمہارے درمیان کوئی شرط طے نہیں ہوتی۔“ ایک روایت میں الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔