حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو قِلابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَجْلانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ الْمَدَنِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ لِبَشِيرٍ الصَّغِيرِ مَقْعَدٌ لا يَكَادُ يُخْطِئُهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَقَدَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا عَادَ إِلَى مَقْعَدِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَشِيرُ لَمْ أَرَكَ مُنْذُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي ابْتَعْتُ بَعِيرًا مِنْ فُلانٍ فَمَكَثَ عِنْدِي ثُمَّ شَرَدَ ، فَجِئْتُ بِهِ فَدَفَعْتُهُ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَبِلَهُ مِنِّي ، قَالَ : فَكَانَ شَرَطَ لَكَ ذَاكَ ؟ ، قَالَ : لا وَلَكِنْ قَبِلَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الشُّرُودَ يُرَدُّ مِنْهُ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بشیر صغیر کے بیٹھنے کی ایک مخصوص جگہ تھی، جہاں وہ باقاعدگی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک انہیں ملاحظہ نہیں فرمایا، جب وہ تین دن کے بعد وہ اپنی مخصوص جگہ پر آئے، تو نبی نے ان سے دریافت کیا: ”اے بشیر! میں نے تمہیں پچھلے تین دن سے دیکھا نہیں ہے۔“ تو انہوں نے عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے فلاں شخص سے اونٹ خریدا تھا، وہ میرے پاس رہا اور اس کے بعد وہ سرکش ہو کر بھاگ گیا، میں اس کے پیچھے گیا (اسے پکڑ کے لا کر) اسے اس کے مالک کے سپرد کر دیا، تو اس نے وہ مجھ سے لے لیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئی شرط طے کی تھی؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، اس نے ویسے ہی اسے لے لیا ہے۔“ تو نبی نے ان سے فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ سرکش جانور اسی بنیاد پر واپس کیے جاتے ہیں؟“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2873
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10860، 10861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2873، 2874، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6135، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1405»