نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَوَّانٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي كُنْتُ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، وَإِنَّ ابْنَهُ وَامْرَأَتَهُ بَاعُونِي وَاشْتَرَطُوا وَلائِي ، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا ؟ ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، دَخَلَتْ عَلَى بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ ، فَقَالَتِ : اشْتَرِينِي ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَهْلِي لا يَبِيعُونَنِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلائِي ، قُلْتُ : لا حَاجَةَ لِي فِيكِ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ ، فَقَالَ : وَمَا قَالَتْ بَرِيرَةُ ؟ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا ، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَلَوِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ " .عبدالواحد بن ایمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: ”اے ام المؤمنین! میں عتبہ بن ابولہب کے پاس موجود تھا (یعنی ان کا غلام تھا)، اس کے بیٹے اور اس کی بیوی نے مجھے فروخت کر دیا اور میری ولاء کی شرط عائد کی، تو میں کسی کا آزاد کردہ غلام شمار ہوں گا؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! بریرہ میرے پاس آئی، اس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا، اس نے کہا: آپ مجھے خرید لیں، میں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے کہا: میرے مالکان مجھے اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے، جب تک وہ میرے ولاء کی شرط عائد نہ کریں، تو میں نے کہا: پھر تو مجھے تمہارے بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی یا آپ کو اطلاع دی گئی، تو آپ نے دریافت کیا: ”بریرہ کیا کہہ رہی ہے؟“ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی نے فرمایا: ”تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو اور ان لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو، وہ جو چاہیں شرطیں[1] عائد کرتے پھریں۔“ (سیدہ عائشہ فرماتی ہیں) تو میں نے اسے خرید کر اسے آزاد کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے، خواہ (دوسرے فریق کے لوگ) سو شرائط عائد کریں۔“