حدیث نمبر: 2871
نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ الْبُنْدَارُ حَبْشُونَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَاتَبْتُ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ كُلَّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لا وَلَكِنْ إِنْ شِئْتِ عَدَدْتُ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَجَاءَتْ عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَّتْهَا بِمَا قَالَتْ لَهُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لا إِذَنْ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا ذَاكَ ؟ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا ، فَقُلْتُ : لا ، إِنْ يَشَاءُ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ ، فَإِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، تَعْلَمُنَّ بِأَنَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنَّ الشَّرْطَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُونَ : اعْتِقْ فُلانًا وَالْوَلاءُ لِي ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، قَالَتْ : وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا " .
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ نے اپنے لیے نو اوقیہ کی ہر سال ادائیگی کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں، تاکہ ان سے اس بارے میں مدد لیں، تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”نہیں، اگر تم چاہو، تو میں ساری ادائیگی ایک ہی مرتبہ کر دوں گی، البتہ تمہاری ولاء کا حق میرے پاس ہو گا۔“ بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی، ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو ان لوگوں نے اس بات سے انکار کر دیا اور کہا کہ ولاء کا حق ان کے پاس ہی رہے گا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں، اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو بریرہ نے سیدہ عائشہ کو ہلکی آواز میں ساری بات بتائی، جو اس نے اپنے مالکان سے کہی تھی (اور جو جواب انہوں نے دیا تھا)، تو سیدہ عائشہ نے یہی کہا: ”نہیں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا (تو میں اس معاملے کے لیے تیار ہوں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا معاملہ ہے؟“ تو سیدہ عائشہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! بریرہ میرے پاس آئی تھی، تاکہ اپنے کتابت کے معاہدے کے بارے میں مجھ سے مدد لے، تو میں نے یہ کہا کہ اگر مالکان چاہیں، تو میں انہیں ساری ادائیگی ایک ساتھ کر دوں اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، وہ اپنے مالکان کے پاس گئی، تو انہوں نے جواب دیا: نہیں، ولاء کا حق ہمارے پاس ہی رہے گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے خرید کر اسے آزاد کر دو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے، جو آزاد کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: تو میں نے اسے خرید کر آزاد کر دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کر دیتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب نہیں دیتی، یہ بات جان لو کہ جو شخص کسی ایسی شرط عائد کرے، جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں، وہ شرط باطل شمار ہو گی، اگرچہ سو مرتبہ کیوں نہ عائد کی گئی ہو، اللہ کا فیصلہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے اور اللہ نے جس شرط کی اجازت دی ہے، وہ شرط زیادہ مضبوط ہو گی، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، ولاء کا حق اسی شخص کو ہے، جو آزاد کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار نہ دیتے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2871
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 456، 1493، 2155، 2168، 2536، 2561، 2563، 2564، 2565، 2578، 2717، 2726، 2729، 2735، 5097، 5279، 5284، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1075،1504 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2233، 2234، 2235، 2236، 2916، 3929، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1154، 1155، 1256، 2124، 2125، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2335، 2336، 2337، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2074، 2076، 2077، 2521، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 279، 1259، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2871، 2872، 3753، 3754، 3755، 3756، 3757، 3758، 3759، 3760، 3761، 3762، 3763، 3764، 3765، 3766، 3775، 3776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24687»