حدیث نمبر: 2870
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ ، قَالا : نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى بِكْرٍ صَعْبٍ لأَبِيهِ ، فَكَانَ يَغْلِبُهُ حَتَّى يَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيحَ بِهِ عُمَرُ ، وَيَغْلِبُهُ الْبِكْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ يَا عُمَرُ ، فَاشْتَرَاهُ ، فَدَعَا ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَ : هُوَ لَكَ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبَّادٍ.
محمد محی الدین

عمرو نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک ایسے اونٹ پر سوار تھے، جو قابومیں نہیں آتا تھا، وہ ان کی والدہ کی ملکیت تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر اس پر قابونہیں پا سکے، وہ اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ سے آگے نکل گیا، بعد میں انہیں جھڑکا، لیکن وہ اونٹ ان کے قابومیں نہیں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! مجھے فروخت کر دو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا: ”یہ تمہارا ہوا، اب تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن عباد نامی راوی کے ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2870
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2870، انفرد به المصنف من هذا الطريق»