حدیث نمبر: 2868
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا الْمُعَافَى ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، حِمْلَ خَبَطٍ ، فَلَمَّا وَجَبَ لَهُ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْتَرْ ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ : إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مِثْلَهُ بَيْعًا عَمَرَكَ اللَّهُ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : مِنْ قُرَيْشٍ " ،.
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کوئی چیز خریدی، میرا خیال ہے اس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا، جب سودا طے ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اختیار کر لو (یعنی تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔“ تو دیہاتی نے کہا: ”میں نے آج تک ایسی سودا نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ آپ کے سودے کو آباد رکھے! آپ کا کون سے قبیلہ سے تعلق ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش سے ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2868
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2318، 2319، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1249، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2184، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10554، 10555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867، 2868، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5290، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3552، 6388، 9066»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2868»