حدیث نمبر: 2867
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَمِّي . ح وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حِمْلَ خَبَطٍ ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْتَرْ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا " ، وَقَالَ أَحْمَدُ : فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ : عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا ، قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ : مَعْنَى قَوْلُ الْعَرَبِ : عَمَرَكَ بِفَتْحِ الرَّاءِ : سَأَلْتُ اللَّهَ تَعْمِيرَكَ ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا۔ جب سودا طے کیا گیا، تو نبی نے اس سے فرمایا: ”تمہیں اختیار ہے (کہ اگر تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔“ تو اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو مبارک کرے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو آباد کرے۔ علم لغت کے ماہرین نے کہا ہے: روایت میں استعمال ہونے والے لفظ ”عمرک اللہ“ کا مطلب یہ ہے: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آباد رکھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2867
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2318، 2319، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1249، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2184، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10554، 10555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867، 2868، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5290، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3552، 6388، 9066»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867»