نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَمِّي . ح وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حِمْلَ خَبَطٍ ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْتَرْ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا " ، وَقَالَ أَحْمَدُ : فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ : عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا ، قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ : مَعْنَى قَوْلُ الْعَرَبِ : عَمَرَكَ بِفَتْحِ الرَّاءِ : سَأَلْتُ اللَّهَ تَعْمِيرَكَ ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا۔ جب سودا طے کیا گیا، تو نبی نے اس سے فرمایا: ”تمہیں اختیار ہے (کہ اگر تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔“ تو اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو مبارک کرے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو آباد کرے۔ علم لغت کے ماہرین نے کہا ہے: روایت میں استعمال ہونے والے لفظ ”عمرک اللہ“ کا مطلب یہ ہے: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آباد رکھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔