حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَايِعَانِ فِي الْبَيْعِ وَالسِّلْعَةِ كَمَا هِيَ لَمْ تُسْتَهْلَكْ ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ،.محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سودا کرنے والے دونوں فریقوں کے درمیان سودے کے بارے میں اختلاف ہو جائے اور سامان اسی صورت میں موجود ہو، ہلاک نہ ہوا ہو، تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا، یا پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کر دیں گے۔“