حدیث نمبر: 2860
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن أَبِيه ، قَالَ : بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الإِمَارَةِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، يَعْنِي مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ فَجَاءَ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، قَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ وَإِنِّي أَرْضَى فِي ذَلِكَ بِرَأْيِكَ ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بَيْعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا شُهُودٌ ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ " ، قَالَ الأَشْعَثُ : قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ.
محمد محی الدین

عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیس ہزار کے عوض میں ایک سرکاری غلام کو فروخت کر دیا، یعنی سیدنا اشعث بن قیس کو، وہ دس ہزار لے کر آئے، تو سیدنا عبداللہ نے کہا: ”میں نے تو بیس ہزار کے عوض آپ کو فروخت کیا تھا۔“ تو اشعث نے کہا: ”میں نے یہ دس ہزار کے عوض کیا ہے، میں اس بارے میں آپ کے فیصلہ سے راضی ہوں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ایک حدیث تمہیں سناتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ ابن مسعود نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب دو آدمی سودا کرتے ہیں اور دونوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، تو اس بارے میں وہ قول معتبر ہوتا ہے، جو فروخت کرنے والا کہتا ہے، پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کر دیں۔“ تو سیدنا اشعث نے کہا: ”میں اس سودے کو ختم کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2860
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 680، 681، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2306، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4664، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6199، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3511، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1270، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2591، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2186، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2855، 2858، 2859، 2860، 2861، 2862، 2863، 2864، 2865، 2866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4530»
«قال ابن الملقن: ضعيف لأجل انقطاعه فإن أبا عبيدة لم يدرك أباه ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 593)»