سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالْبَدَاءَةِ بِهِمَا أَوَّلَ الْوُضُوءِ باب: : کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ترغیب ، وضو کا آغاز ان دونوں سے کیا جائے
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، وَثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهُمَا ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ خَلَّلَ أَصَابِعَهُ وَخَلَّلَ لِحْيَتِهِ ثَلاثًا ، حِينَ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ " . لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ حَرْفًا بِحَرْفٍ ، قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ : وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مَوْضِعٌ فِيهِ عِنْدَنَا وَهْمٌ ؛ لأَنَّ فِيهِ الابْتِدَاءَ بِغَسْلِ الْوَجْهِ قَبْلَ الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، فَبَدَأَ فِيهِ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ قَبْلَ غَسْلِ الْوَجْهِ وَتَابَعَهُ أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ فَبَدَأَ فِيهِ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ قَبْلَ الْوَجْهِ وَهُوَ الصَّوَابُ.ابووائل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا اور دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر اور دونوں کانوں کے باہر والے حصے اور اندرونی حصے کا مسح کیا اور پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھو لیے، پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کا خلال کیا، جب انہوں نے اپنا چہرہ دھویا تھا تو اس دوران انہوں نے تین مرتبہ اپنی داڑھی کا خلال بھی کیا تھا، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے اسی طرح (وضو) کیا تھا جیسے آپ حضرات نے مجھے (وضو) کرتے دیکھا ہے۔“ یہ روایت ان ہی الفاظ سے منقول ہے تاہم اس روایت میں ایک مقام پر راوی کو وہم لاحق ہوا ہے، کیونکہ اس میں وضو کے آغاز کا تذکرہ چہرہ دھونے سے کیا گیا ہے اور یہ چہرہ دھونا، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے پہلے ہے جبکہ عبدالرحمن نامی راوی نے اس روایت کو اسی سند کے ہمراہ نقل کیا ہے اور اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے ذریعے وضو کا آغاز کرنے کا تذکرہ ہے اور یہ عمل چہرہ دھونے سے پہلے ہے۔