حدیث نمبر: 2858
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمُسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا ، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ فِي ثَمَنِهِمْ ، قَالَ : إِنَّمَا أَخَذْتُهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، فَقَالَ الأَشْعَثُ : أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَتْ بَيِّنَةٌ ، فَهُوَ مَا قَالَ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ " ،.
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن قیس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ پیغام نقل کرتے ہیں: سیدنا اشعث بن قیس نے خمس کے غلاموں میں ایک غلام بیس ہزار درہم میں سیدنا عبداللہ سے خرید لیا، سیدنا عبداللہ نے اس کی قیمت کے بارے میں یہ پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے تو یہ دس ہزار درہم کے عوض لیا ہے۔“ تو عبداللہ نے کہا: ”آپ کسی ایسے شخص کا نام لیں، جو آپ میں اور مجھ میں فیصلہ کر سکے۔“ تو سیدنا اشعث نے کہا: ”میرے اور آپ کے درمیان آپ ہی فیصلہ کریں گے۔“ تو سیدنا عبداللہ نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب سودا کرنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے اور ان میں کوئی ثبوت نہ ہو، تو وہ قول معتبر ہو گا، جو سامان کے مالک کا ہے، یا دونوں اس سودے کو ترک کر دیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2858
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 680، 681، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2306، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4664، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6199، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3511، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1270، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2591، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2186، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2855، 2858، 2859، 2860، 2861، 2862، 2863، 2864، 2865، 2866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4530»
«قال ابن الملقن: ضعيف لأجل انقطاعه فإن أبا عبيدة لم يدرك أباه ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 593)»