ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : " حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً ، فَقَالَ هَذَا : أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ الآخَرُ : بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ فِي مثل هَذَا فَقَالَ : حَضَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ مثل هَذَا فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ، ثُمَّ يَخْتَارُ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .عبدالملک بن عبیدہ بیان کرتے ہیں: میں ابوعبیدہ بن عبداللہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے ایک چیز کا سودا کیا، انہوں نے کہا: ”میں نے یہ چیز اتنے عوض میں لی ہے۔“ دوسرے نے کہا: ”میں نے اتنے عوض میں فروخت کی ہے۔“ تو سیدنا ابوعبیدہ نے کہا: اسی طرح کی صورت حال سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوئی تھی، تو انہوں نے بتایا تھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب اس طرح کا معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کرنے والے کے بارے میں یہ ہدایت کی تھی: ”اس سے حلف لیا جائے، پھر اس کے بعد خریدار کو اختیار ہو گا، چاہے تو فروخت کرنے والے کے بیان کے مطابق اس چیز کو حاصل کرے اور اگر چاہے، تو اسے ترک کر دے۔“