ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَعْرَابِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، نَا شَاذَانُ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ ، قَالَ : إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ حُصُولَ الْغَائِصِ ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الآبِقُ ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ ، وَبَيْعُ مَا يَكُونُ فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ ، وَبَيْعُ تُرَابِ الْمَعَادِنِ ، وَبَيْعُ مَا فِي ضُرُوعِ الأَنْعَامِ إِلا بِكَيْلٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یحییٰ نامی راوی نے بیع غرر کی وضاحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: بیع غرر میں یہ بات شامل ہے کہ غوطہ خور غوطہ لگا کر جو چیز نکال کے لائے گا، اس کا سودا کیا جائے، بیع غرر میں یہ بات شامل ہے کہ بھاگے ہوئے غلام کا سودا کیا جائے، یا بھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کیا جائے، یا جانوروں کے پیٹ میں موجود جو چیز ہے، اس کا سودا کیا جائے، یا معدنیات کے اندر جو کچھ نکلے گا، اس کا سودا کیا جائے، یا جانوروں کے تھنوں میں جو چیز ہے، اس کا سودا کیا جائے، البتہ اگر ماپی ہوئی چیز کا سودا کیا جائے (تو اگر اتنا دودھ نکلے گا، تو سودا ہو گا)، تو ایسا کرنا جائز ہے۔