ثنا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : " لا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى تَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے بازار سے زیتون کا تیل خریدا، جب میں نے سودا پکا کر لیا، تو ایک شخص مجھ سے ملا، اس نے مجھے زیادہ منافع دینے کی پیش کش کی، میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارنے کا ارادہ کیا، تو پیچھے سے کسی نے میرا بازو پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: ”تم اسے اس وقت تک فروخت نہ کرو، جب تک تم اسے خرید کر اپنی جگہ پر نہیں لے جاتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ سودے کو اسی جگہ پر فروخت کیا جائے، جہاں سے خریدا گیا تھا، ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تجارت کرنے والا شخص اسے اپنی جگہ پر نہیں لے جاتا۔“