حدیث نمبر: 2827
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا يُقَالُ لَهُ شَهْرٌ كَانَ تَاجِرًا ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " عَنْ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ إِلا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ " ،.محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا، ان کا نام شہر تھا، وہ تاجر تھا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، جب تک کوئی دوسرا شخص اسے چھوڑ نہ دے، البتہ مال غنیمت کا اور وراثت کا حکم مختلف ہے۔“