حدیث نمبر: 2825
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : " عُرِضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلْبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا ، وَقَالَ : " أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً بِهَذَا الدِّينَارِ، فَأَتَيْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ فَاشْتَرَيْتُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا ، أَوْ قَالَ : أَقُودُهُمَا ، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَسَاوَمَنِي فَبِعْتُ إِحْدَى الشَّاتَيْنِ بِدِينَارٍ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَبِدِينَارٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الشَّاةُ وَهَذَا دِينَارُكُمْ ، فَقَالَ : صَنَعْتَ كَيْفَ ؟ ، فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ فِي كُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي " .
محمد محی الدین

سیدنا عروہ بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوداگروں کے قافلے کے بارے میں پتہ چلا، تو آپ نے مجھے ایک دینار دیا، آپ نے فرمایا: ”اے عروہ! ان سوداگروں کے پاس جاؤ اور ان سے ایک دینار کی قیمت میں ایک بکری لے آؤ۔“ راوی کہتے ہیں: میں ان سوداگروں کے پاس گیا اور ایک دینار کے عوض میں دو بکریاں خرید لیں، پھر میں انہیں ہانک کر لا رہا تھا، تو راستے میں ایک شخص مجھے ملا، اس نے مجھ سے سودا کیا، تو میں ان دو میں سے ایک بکری کو ایک دینار میں فروخت کر دیا، پھر میں ایک بکری اور ایک دینار لے آیا اور رسول اللہ کے پاس آیا اور کہا: ”یا رسول اللہ! یہ آپ کی بکری ہے اور یہ آپ کا دینار ہے۔“ تو نبی نے دریافت کیا: ”تم نے یہ کیا کیا ہے؟“ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنا دیا، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! اس کے سودے میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات اچھی طرح یاد ہے، میں کوفہ کے بازار میں کھڑا ہوتا اور اپنے گھر میں واپس آنے سے پہلے چالیس ہزار کما لیتا تھا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2825
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3642، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3384، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1258، 1258 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2402، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2824، 2825،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19664»
«قال ابن حزم: فيه سعيد بن زيد أخو حماد وهو ضعيف ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 452)»