ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَقِيَ جَلْبًا فَأَعْطَاهُ دِينَارًا ، فَقَالَ : اشْتَرِ لَنَا شَاةً ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَبَاعَهُ شَاةً بِدِينَارٍ ، قَالَ : فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ فِي صَفْقَةِ يَمِينِكَ ، قَالَ : فَإِنْ كُنْتُ لأَقُومُ بِالْكُنَاسَةِ فَمَا أَبْرَحُ حَتَّى أَرْبَحَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا " .عروہ بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوداگروں کے قافلے کے بارے میں پتا چلا، تو انہوں نے ایک صحابی کو ایک دینار دیا اور حکم دیا: ”اس سے میرے لیے ایک بکری کو خرید کر لاؤ۔“ تو وہ چلے گئے اور ایک دینار کے عوض میں دو بکریاں خرید لائے، پھر ان کو ایک شخص ملا، تو انہوں نے ایک دینار کے بدلے میں ان سے ایک بکری خرید لی، راوی کہتے ہیں: وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے، تو نبی نے فرمایا: ”اللہ تمہارے سودے میں برکت ڈالے۔“ راوی کہتے ہیں: (یہ صورت حال ہوتی کہ) میں کوفہ کے ایک بازار میں کھڑا ہوتا تھا اور چالیس ہزار تک کما لیا کرتا تھا۔