ثنا ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " كُنَّا إِذَا تَبَايَعْنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقِ الْمُتَبَايِعَانِ ، قَالَ : فَتَبَايَعْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ ، فَبِعْتُهُ مَا لِي بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ ، قَالَ فَلَمَّا بِعْتُهُ طَفِقْتُ أَنْكُصُ الْقَهْقَرَى خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي عُثْمَانُ الْبَيْعَ قَبْلَ أَنْ أُفَارِقَهُ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم آپس میں کوئی سودا کیا کرتے تھے، تو دونوں فریقوں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا تھا، جب تک سودا کرنے والے دونوں فریق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے اور سیدنا عثمان نے ایک سودا کیا، میں نے اپنی زمین، جو وادی میں موجود تھی، وہ ان کی زمین، جو خیبر میں موجود تھی، فروخت کر دی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب میں نے انہیں وہ فروخت کر دی، تو اس کے بعد میں الٹے قدم تیزی سے واپس ہوا، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میرے ان سے جدا ہونے سے پہلے سیدنا عثمان اس سودے کو ختم نہ کر دیں۔