سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالْبَدَاءَةِ بِهِمَا أَوَّلَ الْوُضُوءِ باب: : کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ترغیب ، وضو کا آغاز ان دونوں سے کیا جائے
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ طَاهِرٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ ، بِبَلْخَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ الْجَوْزَجَانِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " . مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا خَطَأٌ وَالَّذِي قَبْلَهُ وَالْجَوَابُ أَصَحُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنا چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“ اس روایت کا راوی محمد بن ازہر ضعیف ہے اور یہ روایت غلط ہے، اس سے پہلے جو ”مرسل“ روایت نقل کی گئی تھی، وہ زیادہ مستند ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔