ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَاضِي ، نَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ فِي عَسْكَرٍ فَأَتَى رَجُلٌ مَعَهُ فَرَسٌ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا : أَتَبِيعُ هَذَا الْفَرَسَ بِهَذَا الْغُلامِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَاعَهُ ثُمَّ بَاتَ مَعَنَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَامَ إِلَى فَرَسِهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُنَا : مَا لَكَ وَلِلْفَرَسِ ؟ أَلَيْسَ قَدْ بِعْتَنِيهَا ؟ ، قَالَ : مَا لِي فِي هَذَا الْبَيْعِ مِنْ حَاجَةٍ ، قَالَ : مَا لَكَ ذَلِكَ ، لَقَدْ بِعْتَنِي ، فَقَالَ لَهُمَا الْقَوْمُ : هَذَا أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَاهُ ، قَالَ لَهُمَا : " أَتَرْضَيَانِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالا : نَعَمْ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَإِنِّي لأَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا " ،.شیخ ابووصی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنگی مہم میں شریک تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس کے ساتھ اس کا گھوڑا بھی تھا، ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ”کیا تم یہ گھوڑا اس غلام کے عوض میں اسے فروخت کرو گے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر اس نے اس کو فروخت کر دیا، پھر وہ رات ہمارے ساتھ رہا، تو جب صبح ہوئی، تو وہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھا، تو ہمارے ساتھی نے اسے کہا: ”تمہارا اس گھوڑے کے ساتھ کیا تعلق ہے، کیا تم نے یہ مجھے فروخت نہیں کر دیا ہے؟“ تو وہ شخص بولا: ”مجھے اس سودے کی ضرورت نہیں ہے۔“ تو ہمارے ساتھی نے کہا: ”اب تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، تم اسے مجھے فروخت کر چکے ہو۔“ وہاں موجود لوگوں نے ان دونوں سے کہا: ”یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبردہ موجود ہیں۔“ وہ دونوں لوگ ان کے پاس آئے، تو سیدنا ابوبرزہ نے ان دونوں سے کہا: ”کیا تم اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سودا کرنے والوں کو سودا ختم کرنے اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے۔“ اور تم دونوں کے بارے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔