حدیث نمبر: 2807
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أنا اللَّيْثُ ، أَنَّ نَافِعًا ، حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَيَتَبَايَعَانِ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ " ،.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب دو آدمی سودا کر لیتے ہیں، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہو گا، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور ایک ساتھ رہتے ہیں یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار نہیں دے دیتا، جب وہ دونوں اس صورت میں سودا کر لیں گے، تو سودا لازم ہو جائے گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2807
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2107، 2109، 2111، 2112، 2113، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1531،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1279 ، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2186، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4479 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3454، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1245، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2181،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2806، 2807، 2808، 2811، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 400، 4570، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 669، 670»