حدیث نمبر: 2800
ثنا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ الأَهْوَازِيُّ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَثِيرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثَ ، فَقَالُ : مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، أَوْ وَزْنٍ مَعْلُومٍ ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ دو سال یا تین سال کے لیے کھجوروں کا ادھار سودا کیا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے ادھار سودا کرنا ہو، تو وہ متعین شدہ ماپی ہوئی چیز، متعین شدہ وزن کی ہوئی چیز کے عوض میں متعین مدت تک کے لیے ادھار کرے۔“