ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ، وَأَجَلٍ مَعْلُومٍ " ، لَفْظُ النَّيْسَابُورِيِّ ، فَقَالَ الْمَحَامِلِيُّ : فِي الطَّعَامِ وَالتَّمْرِ أَوِ النَّخْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، وَكَيْلٍ مَعْلُومٍ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ ایک سال یا دو سال کے لیے بیع سلف کیا کرتے تھے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے سلف (ادھار) سودا کرنا ہو، تو وہ متعین پیمائش اور متعین وزن کے عوض میں متعین مدت کے لیے سودا کرے۔“ روایت کے یہ الفاظ نیشاپوری نامی راوی کے ہیں، محالی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ اناج، کھجور یا کھجور کے درختوں کے بارے میں بیع سلف کیا کرتے تھے، تو نبی نے ارشاد فرمایا: ”متعین مدت کے لیے کرو اور ماپی ہوئی چیز کی بیع کرو۔“