حدیث نمبر: 2798
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الزَّيَّاتِ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِمُونَ فِي الثِّمَارِ ، فَقَالَ : " أَسْلَمُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " ، وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاثِ ، فَقَالَ : سَلِّفُوا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ".محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ پھلوں میں بیع سلم کیا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”طے شدہ مقدار کے عوض میں متعین مدت کے پھلوں میں بیع سلم کیا کرو۔“ ابن مہدی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: لوگ دو یا تین سال تک بیع سلم کیا کرتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”متعین شدہ پیمائش اور وزن کے عوض میں سلف کیا کرو۔“