حدیث نمبر: 2796
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، وَجَدِّي ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مُغْلَفَةٌ بِذَهَبٍ ، فَابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا " ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ ، فَقَالَ : لا ، رُدَّ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا " .
محمد محی الدین

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار لایا گیا، جس پر سونا چڑھا ہوا تھا اور قیمتی پتھر بھی لگے ہوئے تھے، ایک شخص نے سات یا شاید نو دینار کے عوض خرید لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، جب تک ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔“ تو وہ شخص بولا: ”میں پھر پتھر لے لوں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، تم اسے واپس کرو، جب تک ان دونوں (یعنی پتھر اور سونے) کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2796
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1591، وابن الجارود فى "المنتقى"، 711، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4589 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6121، 6122، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3351، 3352، 3353، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1255،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2796، 2797، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24570»