ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، وَجَدِّي ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مُغْلَفَةٌ بِذَهَبٍ ، فَابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا " ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ ، فَقَالَ : لا ، رُدَّ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا " .سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار لایا گیا، جس پر سونا چڑھا ہوا تھا اور قیمتی پتھر بھی لگے ہوئے تھے، ایک شخص نے سات یا شاید نو دینار کے عوض خرید لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، جب تک ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔“ تو وہ شخص بولا: ”میں پھر پتھر لے لوں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، تم اسے واپس کرو، جب تک ان دونوں (یعنی پتھر اور سونے) کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔“