حدیث نمبر: 2792
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَوَفَاءُ بْنُ سُهَيْلٍ ، قَالُوا : نا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مَنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ عَدَدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَأَنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلائِكَةَ ، يَقُولُ : مَا أَرَادَ هَؤُلاءِ ؟ " .محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ عرفہ کے دن بہت لوگوں کو آزاد کرتا ہے اور کسی دن میں اس سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا، اللہ کی رحمت اس دن زیادہ قریب ہو جاتی ہے، پھر اللہ فرشتوں کے سامنے ان لوگوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔“