سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يُؤْذِيهِ قَمْلُ رَأْسِهِ باب: حاجی کے سر میں جوؤں کا بیان
حدیث نمبر: 2784
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَلَهُ وَفْرَةٌ ، وَبِأَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَبِأَعْلاهَا قَمْلَةٌ أَوْ صُؤَابٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الأَذَى أَمَعَكَ نُسُكٌ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينٍ صَاعٌ " .محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، ان کے بال بڑے تھے، ان کے بالوں کی جڑوں میں اور ان کے اوپر والے حصے میں جوئیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس تکلیف میں ہو، کیا تمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”نہیں!“ نبی نے فرمایا: ”پھر اگر تم چاہو، تو تین دن روزے رکھ لو یا تین صاع کھجوریں (غریبوں کو) کھلا دو، ہر ایک مسکین کو ایک صاع دو۔“