سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يُؤْذِيهِ قَمْلُ رَأْسِهِ باب: حاجی کے سر میں جوؤں کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ ، نا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَسَيْفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " احْلِقْ " ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 . فَالصِّيَامُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، وَالصَّدَقَةُ فَرَقٌ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ سلگا رہے تھے۔ یہ حدیبیہ کی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا سر منڈوا دو۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو یہ آیت نازل ہوئی: ”تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو، تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ کر لے یا قربانی کرے۔“ روزہ رکھنے کا حکم تین دن روزے رکھنا ہے۔ صدقے سے مراد یہ ہے کہ چھ مسکینوں کو ایک فرق دیا جائے، اور قربانی سے مراد یہ ہے کہ بکری کی قربانی دی جائے۔