سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يُؤْذِيهِ قَمْلُ رَأْسِهِ باب: حاجی کے سر میں جوؤں کا بیان
ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأُبُلِيُّ ، قَالُوا : نا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي عَبَّادٍ ، نا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ تَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا ، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِدْيَةَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ ، أَوْ يَهْدِيَ شَاةً ، أَوْ يَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ " .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، یہ حدیبیہ کے مقام کی بات ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ سر منڈوا لیں، حالانکہ وہ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود تھے اور نبی نے ابھی لوگوں کے سامنے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ وہ یہیں احرام کھول لیں گے، کیونکہ لوگ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں، تو اللہ نے فدیہ کا حکم نازل کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ایک فرق چھ غریبوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا ایک جانور کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھ لیں۔