سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يُؤْذِيهِ قَمْلُ رَأْسِهِ باب: حاجی کے سر میں جوؤں کا بیان
ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، قَالا : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نا الْفِرْيَابِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : " مَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ ، فَقَالَ : أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَيَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ يَنْسُكَ " . قَالَ سُفْيَانُ : فنزلت هَذِهِ الآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ سورة البقرة آية 196 بِهِ.سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ سلگا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ پھر نبی نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ سر منڈوا لیں اور تین دن روزے رکھیں یا ایک فرق چھ مسکینوں کو کھانے کے لیے دیں یا قربانی کر لیں۔ سفیان رحمہ اللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: (اس واقعہ کے بارے میں) یہ آیت نازل ہوئی: ”تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ ہدیہ دے۔“