سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ باب: احرام میں آدمی کی موت واقع ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2777
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ عَنْ بَعِيرِهِ ، فَوَقَصَتْهُ وَقْصًا فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْنِ ، وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ رہا تھا، وہ اپنے اونٹ سے گر گیا، اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی، اس کا انتقال ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اس کو اس کے یہی دو کپڑوں (کفن کے طور پر) میں پہنا دو، اس کا سر ڈھانپنا نہیں، یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے آئے گا۔“