سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ باب: احرام میں آدمی کی موت واقع ہونے کا بیان
قُرِئَ عَلَى ابْنِ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ : حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ ، وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " . قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ ، هَلْ أَخْبَرَكُمْ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَيْنَ خَرَّ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : لا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا اور وہ اپنے اونٹ سے گر گیا، اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے یہی دو کپڑوں (یعنی احرام کے دو کپڑوں) میں پہنا دو، اس کے سر کو ڈھانپنا نہیں، کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے آئے گا۔“ ابن جریج نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: ”کیا سعید بن جبیر نے آپ کو یہ بات بتائی تھی کہ وہ شخص کون سی جگہ پر گرا تھا؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں!“