حدیث نمبر: 2774
قُرِئَ عَلَى ابْنِ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ : حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ ، وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي " . قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ ، هَلْ أَخْبَرَكُمْ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَيْنَ خَرَّ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : لا .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا اور وہ اپنے اونٹ سے گر گیا، اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے یہی دو کپڑوں (یعنی احرام کے دو کپڑوں) میں پہنا دو، اس کے سر کو ڈھانپنا نہیں، کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے آئے گا۔“ ابن جریج نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: ”کیا سعید بن جبیر نے آپ کو یہ بات بتائی تھی کہ وہ شخص کون سی جگہ پر گرا تھا؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں!“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2774
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1265، 1266، 1267، 1268، 1839، 1849، 1850، 1851، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1206، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3957،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1906 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3238، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 951، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1894، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3084،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2765، 2769، 2770، 2771، 2774، 2775، 2777، 2778، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 471، 472وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1875»
«قال البيهقي: ذكر الوجه غريب فيه ولعله وهم من بعض رواته ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 220)»