سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالْبَدَاءَةِ بِهِمَا أَوَّلَ الْوُضُوءِ باب: : کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ترغیب ، وضو کا آغاز ان دونوں سے کیا جائے
حدیث نمبر: 277
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى فِي الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ ، فَحَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " .محمد محی الدین
جہاں تک ابن جریج کی سلیمان بن موسیٰ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کا تعلق ہے، جو کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے بارے میں ہے، تو وہ یہ ہے: ابن جریج بیان کرتے ہیں: سلیمان بن موسیٰ نے یہ بات بیان کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے، اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“