سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ ابْتِغَاءِ فَضْلِ اللهِ فِي الْحَجِّ باب: حج میں اللہ کا فضل تلاش کرنے کا بیان
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : إِنَّا قَوْمٌ نُكْرَى ، فَهَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ ؟ قَالَ : أَلَسْتُمْ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ، وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ ، وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ ، وَتَحْلُقُونَ رُءُوسَكُمْ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الَّذِي سَأَلْتَنِي فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نزل عَلَيْهِ جَبْرَائِيلُ بِهَذِهِ الآيَةِ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ حُجَّاجٌ " .ابوامامہ تیمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم لوگ (حاجیوں کو جانور) کرائے پر دیتے ہیں، تو کیا ہمارا حج ہو جائے گا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم لوگ بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے، میدان عرفات میں نہیں جاتے، جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے، اپنا سر نہیں منڈواتے؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جو تم نے مجھ سے سوال کیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: ”تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ حاجی ہو۔“