حدیث نمبر: 2751
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْعَلاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْكَاهِلِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : إِنِّي رَجُلٌ أُكْرَى فِي هَذَا الْوَجْهِ ، وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِنَّهُ لا حَجَّ لَكَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ مثل هَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي ، فَسَكَتَ حَتَّى نزلت هَذِهِ الآيَةُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لَكَ حَجًّا " .
محمد محی الدین

ابوامامہ تیمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں اس طرح چیزیں کرائے پر دیتا ہوں، اب یہ کہتے ہیں کہ تمہارا حج نہیں ہوا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا جس مسئلے کے بارے میں تم نے مجھ سے پوچھا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”تم پر کوئی گناہ نہیں ہے جب تم اپنے پروردگار کے فضل کو تلاش کرو۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا حج ہو گیا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2751
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 3051، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1653، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1733، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 352، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8749، 11775، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2751، 2752، 2753، 2755، 2756، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6545»