سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ باب: محرم کے شکار کرنے اور شکار کا گوشت کھانے بیان
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَأَنِّي لِذَا اصْطَدْتُهُ لَكَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَوْلُهُ : اصْطَدْتُهُ لَكَ ، وَقَوْلُهُ : وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ ، لا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ مَعْمَرٍ ، وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ.عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوا۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا، لیکن میں نے احرام نہیں باندھا۔ میں نے ایک نیل گائے کو دیکھا اور اس پر حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، اس بات کا ذکر کیا کہ میں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا اور میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ ان حضرات نے وہ گوشت کھا لیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا کیونکہ میں نے آپ کو یہ بتا دیا تھا کہ میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”یہ میں نے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔“ اور یہ الفاظ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا، اس کا تذکرہ صرف معمر رحمہ اللہ نامی راوی نے کیا ہے۔ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کا یہ فرمان ایک محکم آیت ہے: ”اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو، تو اس وقت شکار کو قتل نہ کرو۔“