حدیث نمبر: 2749
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَأَنِّي لِذَا اصْطَدْتُهُ لَكَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَوْلُهُ : اصْطَدْتُهُ لَكَ ، وَقَوْلُهُ : وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ ، لا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ مَعْمَرٍ ، وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ.
محمد محی الدین

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوا۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا، لیکن میں نے احرام نہیں باندھا۔ میں نے ایک نیل گائے کو دیکھا اور اس پر حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، اس بات کا ذکر کیا کہ میں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا اور میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ ان حضرات نے وہ گوشت کھا لیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا کیونکہ میں نے آپ کو یہ بتا دیا تھا کہ میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”یہ میں نے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔“ اور یہ الفاظ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا، اس کا تذکرہ صرف معمر رحمہ اللہ نامی راوی نے کیا ہے۔ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کا یہ فرمان ایک محکم آیت ہے: ”اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو، تو اس وقت شکار کو قتل نہ کرو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحج / حدیث: 2749
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1821، 1822، 1823، 1824، 2570، 2854، 2914، 4149، 5406، 5407، 5490، 5491 م، 5492، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1196، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 724 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2635،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3966، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2818 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 847، 848، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1867، 1869، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3093، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2749، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22962»
«قال الدارقطني: تفرد بهذه الزيادة معمر ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (10 / 172)»