سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي شُرْبِ مَاءِ زَمْزَمَ باب: زمزم سے پانی پینے کا بیان
ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شَرِبَ لَهُ ، إِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِي بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِشِبَعِكَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ بِهِ ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِيَقْطَعَ ظَمَأَكَ قَطَعَهُ اللَّهُ ، وَهِيَ هَزَمَةُ جِبْرِيلَ وَسُقْيَا اللَّهِ إِسْمَاعِيلَ " .مجاہد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب آب زم زم کو پی لیا جائے، تو اگر تم نے اسے اس لیے پی لیا ہوتا کہ تم اس کے ذریعے شفا حاصل کرو، تو اللہ تمہیں شفا نصیب کرے گا، اگر اسے اس لیے پیا ہوتا کہ تمہارا پیٹ بھر جائے، تو اللہ تمہیں سیر کر دے گا اور اگر اس لیے پیا ہوتا کہ پیاس ختم ہو جائے، تو اللہ اسے بھی ختم کرے گا، یہ جبرائیل علیہ السلام کی ٹھوکر کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے اللہ نے سیدنا اسماعیل کو سیراب کیا تھا۔“