سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
مَا جَاءَ فِي شُرْبِ مَاءِ زَمْزَمَ باب: زمزم سے پانی پینے کا بیان
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا أَبُو زِيَادٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ فَقَالَ شَرِبْتُ : مِنْ زَمْزَمَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِي ؟ قَالَ : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَتَنَفَّسَ ثَلاثًا وَتَضَلَّعْ مِنْهَا ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آيَةٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ " .عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں آب زم زم پی کر آ رہا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے اسی طرح پیا ہے، جیسے پینا چاہیے تھا؟“ اس نے دریافت کیا: ”اے سیدنا ابن عباس! وہ کیسے (پیا جاتا ہے)؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: ”جب تم اسے پینا ہو، تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور اللہ کا نام لو، اور پھر تین سانسوں میں پیو اور زیادہ مقدار میں پیو، جب تم اسے پی لے لو، تو اللہ کی حمد بیان کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان بنیادی فرق ہے، وہ (منافقین) زم زم زیادہ مقدار میں نہیں پیتے۔“